بنگلورو،17؍دسمبر(ایس او نیوز) دو تین دن قبل تک انسداد گؤ کشی قانون کی مخالفت کرنے کا وعدہ کرنے والی جنتا دل (ایس) قیادت نے اب اس قانون کی مخالفت نہ کرکے خاموشی اختیار کرلینے کا فیصلہ لیا ہے- یہ بات سامنے آئی ہے کہ گزشتہ روز کرناٹک لیجسلیٹو کونسل میں ہوئے ہنگامے کے دوران جیسے ہی جے ڈی ایس اور بی جے پی کے درمیان مفاہمت سامنے آئی اس کے ساتھ ہی بی جے پی اور جے ڈی ایس کے درمیان اس بات کا بھی سودا ہو چکا ہے کہ جے ڈی ایس کے سینئر رہنما بسورارج ہوراٹی کو لیجس لیٹو کونسل کی چیر مین شپ دے دی جائے گی- اس کیلئے بی جے پی کی طرف سے واحد شرط یہی رکھی گئی ہے کہ ایوان بالامیں انسداد گؤ کشی قانو ن پر ووٹنگ کی صورت میں جے ڈی ایس کی طرف سے اس بل کی حمایت نہ سہی مخالفت بھی نہیں کی جائے گا-
کہا جاتا ہے کہ اسی سودے بازی کے بعد کل کے کونسل اجلاس کے دوران اس بل کے پیش ہونے کی صورت میں جے ڈی ایس کے اراکین کی طرف سے کیا موقف اپنایا جائے اس ضمن میں پارٹی کی طرف سے کوئی وہپ جاری نہیں ہوا اور ممبروں کو یہ اختیار دے دیا گیا کہ وہ ایوان میں چاہیں تو حاضر رہ سکتے ہیں یا نہیں اسی طرح اس بل کی موافقت یا مخالفت کی بھی جے ڈی ایس اراکین پر کوئی پابندی نہیں تھی- اب یہ سامنے آیا ہے کہ بی جے پی کے ساتھ جے ڈی ایس کی سودے بازی کو قطعی شکل دے دی گئی ہے اور ایوان بالا کے چیر مین کے عہدے کے عوض جے ڈی ایس نے انسداد گؤ کشی بل کو منظور کرنے کیلئے بی جے پی کو موقع فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے-
حکمت عملی یہ بنائی گئی ہے کہ جیسے ہی ایوان کے چیر مین کے طور پر جے ڈی ایس کے نمائندے کا انتخاب عمل میں آئے گا اس کے فوراً بعد انسداد گؤ کشی بل ایوان میں پیش ہو گی اور مرحلے میں بل کی مخالفت کرتے ہوئے جے ڈی ایس کے ممبرس ایوان سے واک آؤٹ کرجائیں گے تاکہ بل کو بی جے پی اپنی اکثریت سے منظور کرواسکے-اگر جے ڈی ایس نے واک آؤٹ نہ کیا اور اس کے ممبروں نے ووٹنگ میں حصہ لیا تو اس مرحلہ میں انسداد گؤ کشی کو ایوان بالا میں مستر د کرنا طے ہے لیکن اب چیر مین شپ کے عہدے کے عوض دونوں پارٹیوں کے درمیان سودا ہوا ہے کہ جے ڈی ایس کی طرف سے انسداد گؤ کشی قانون کی واک آؤٹ کے ذریعے حمایت کی جائے گی-